ابنا: تقریبا دو ہفتے پہلے فوج نے جمہوری طریقے سے منتخب ہوئے مصر کے پہلے صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا.عبوری صدر عدلی منصور نے قائم مقام وزیر اعظم ببلاوي کی موجودگی میں تین نائب وزراء سمیت 35 وزراء کو حلف دلوایا.کابینہ میں زیادہ تر ٹکنالوجسٹ اور اعتدال پسند شامل ہیں. حلف لینے والے وزراء میں تین خواتین بھی شامل ہیں. نئی کابینہ میں فوج کے سربراہ جنرل ابوالفتح السیسی نائب وزیراعظم کے عہدہ سنھبالیں گے۔ فوج کے سربراہ کے پاس عبوری کابینہ میں وزیر دفاع کا عہدہ بھی ہے ۔ سابق صدر مرسی کی کابینہ میں وزیر داخلہ محمد ابراہیم بھی عبوری کابینہ میں شامل ہیں جبکہ نابل فہمی وزیر خارجہ اور شریف اسمائیل کو وزیر تیل بنایا گیا ہے۔مصر کی عبوری کابینہ میں تین خواتین وزراء سمیت ایک عیسائی وزیر بھی شامل ہیں۔ اخوان المسلمین کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ یہ غیر قانونی حکومت ہے اور وہ غیر قانونی وزیراعظم اور کابینہ کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ مصر میں عبوری حکومت آئندہ ہفتے تک ایک پینل تشکیل دے گی جو آئین میں ترامیم اور نئے انتخابات کا شیڈول بنائے گی۔مرسی کو آخری بار عوامی پروگرام میں 26 جون کو دیکھا گیا تھا. مرسی کو ہٹائے جانے کی وجہ سے پورے ملک میں مظاہرے ہو رہے ہیں ۔مصر میں عبوری کابینہ کی حلف برداری کے موقع پر تشدد واقعات ہوئے ہیں۔ دارالحکومت قاہرہ میں گزشتہ رات سے جاری پرتشدد مظاہروں میں اب تک سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھر پھینکے اور ایک سڑک کو مختصر وقت کے لیے بند کر دیا۔
.....
/169